جنت کی بشارت

ہانی کی کہانی:کہانی ایک مولانا کے ذریعے مذہبی روایات اور مولویوں کے ڈھونگ اور فریب کے اخلاق پر تلخ حملہ کرتی ہے۔ رمضان کے مہینے میں خدا کی عبادت میں ڈوبے مولانا صبح کی نماز پڑھتے ہوئے ایک خواب دیکھتے ہیں۔ خواب میں انہیں ایک عالیشان کمرا دکھائی دیتا ہے اور اس کمرے کی ہر کھلی کھڑکی میں ایک حور نظر۔۔۔مزید پڑھیں

مزدور

کہانی کی کہانی:ہمارا مہذب سماج مزدوروں کو انسان نہیں سمجھتا۔ ایک غریب مزدور طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے باوجود مجبوری میں بجلی کے کھمبے پر چڑھ کر بجلی ٹھیک کر رہا ہوتا ہے کہ اچانک اس کا توازن بگڑتا ہے اور وہ نیچے آ رہتا ہے۔ کسی طرح اسے اسپتال پہنچایا جاتا ہے۔ ابھی اس کی سانسیں چل رہی ہیں کہ ڈاکٹر اسے مردہ اعلان۔۔۔مزید پڑھیں

گھونگھٹ

سفید چاندنی بچھے تخت پر بگلے کے پروں سے زیادہ سفید بالوں والی دادی بالکل سنگ مرمر کا بھدا سا ڈھیر معلوم ہوتی تھیں۔ جیسے ان کے جسم میں خون کی ایک بوند نہ ہو۔ ان کی ہلکی سرمئی آنکھوں کی پتلیوں تک پر سفیدی رینگ آئی تھی اور جب وہ اپنی بے نورآنکھیں کھولتیں تو ایسا معلوم ہوتا، سب روزن بند ہیں۔ کھڑکیاں دبیز پردوں کے پیچھے سہمی چھپی بیٹھی ہیں۔ انہیں دیکھ کر آنکھیں چوندھیانے لگتی۔۔۔مزید پڑھیں

خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہے

خیال رنج و راحت سے بری معلوم ہوتی ہے

محبت ماورائے زندگی معلوم ہوتی ہے

عجب کیفیت خود آگہی معلوم ہوتی ہے

خودی ہوتی ہے پیدا بے خودی معلوم ہوتی ہے

چمن میں کتنی ہی صیاد و گلچیں سازشیں کر لیں

مشیت تو مگر کچھ اور ہی معلوم ہوتی۔۔۔مزید پڑھیں

ہتک

فیڈان۔۔۔ پیالی اور پرچ بجانے کی آواز آئے جو آہستہ آہستہ قریب آتی جائے۔ ساتھ ہی ساتھ ہوٹل کے چھوکرے کی سیٹی کی آواز بھی آئے جو کسی فلمی دُھن میں ہو۔۔۔ بمبئی میں ہوٹل کے چھوکرے جو ہوٹل سے باہر چائے وغیرہ لے کر جاتے ہیں ’’باہر والے‘‘ کہلاتے ہیں یہ عموماً چائے کی خالی پیالی اور پرچ آپس میں بجایا کرتے ہیں کہ بلڈنگ کے رہنے والوں کو ان کی موجودگی کا علم ہو۔۔۔مزید پڑھیں

اردو ادب کی سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی ویب سائٹ

اردوھب کا آغاز اردو ادب کے فروغ کے لیے کیا گیا ہیں۔ اردو ھب میں مشہور مصنف جیسے منشی پریم چند، سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، قرۃ العین حیدر، اشفاق احمد جیسے مشہور مصنف نگاروں کی کہانیوں اور افسانوں کو شامل کیا گیا ہے۔ جو اپنے آپ میں یکتا ہے۔ اس میں ان کی کہانیوں کے مزاج، ساخت اور نوعیت کے علاوہ خود مصنف کی ادبی قوت کے بارے میں روشنی ڈالی گئی ہے۔ مجموعی طور پر مصنف کی کہانیوں میں دیگر خوبیوں کے علاوہ ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ان کے نتائج نچوڑ کر دیکھنے سے ہند اسلامی کلچر یا گنگا جمنی تہذیب کی سماجی صورت حال اور انسانی رویوں کا خاصا معقول مرقع نظر آنے لگتا ہے۔ نئی نئی کہانیاں پڑھنے کے لیے اردوھب پر تشریف لائیں۔ اور کہانیاں پڑھ کر لطف اٹھائیں۔ اردو ادب ھب نئے لکھنے والوں کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اور ہر موضوع پر مشہور و معروف لکھاریوں کے ساتھ ساتھ نئے کالم نگاروں، شاعروں اور ادیبوں کو مناسب جگہ فراہم کرتا ہے۔ اگر آپ اردو ھب پر اشاعت کے لیے مضامین، ادبی تحریریں، شاعری یا دیگر تحریرہں ارسال کرنا چاہیں تو اردو ھب پر تشریف لائیں۔ شکریہ!

https://urduhub.pk/

مصری کورٹ شپ

میں نے جو پیرس سے لکھا تھا وہی اب کہتا ہوں کہ میں ہرگز ہرگز اس بات کے لئے تیار نہیں کہ بغیر دیکھے بھالے شادی کر لوں، سو اگر آپ میری شادی کرنا چاہتی ہیں تو مجھ کو اپنی منسوبہ بیوی کو نہ صرف دیکھ لینے دیجئے بلکہ اس سے دو چار منٹ باتیں کر لینے دیجئے۔یہ الفاظ تھے جو نوری نے اپنی بہن سے پر زور لہجے میں کہے۔۔۔۔مزید پڑھیں

سفر در سفر

کہانی کی کہانی:یہ ایک ایسے فرد کی کہانی ہے، جو ایک درویش کے پاس روحانی طاقت حاصل کرنے کا طریقہ پوچھنے کے لیے جاتا ہے۔ مگر جب وہاں اس کی پیر سے ملاقات ہوتی ہے وہ اسے روحانی طاقت سے ہٹاکر خدمت خلق کے فائدے بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ نماز کی قضا ہے، مگر خدمت کی قضا۔۔۔۔مزید پڑھیں

راج مہر

میں کیا کرتی میرے پر کاٹ دئیے گئے تھے۔ میری سوچ کے در بند کر کے ان پر تالے لگا دئیے گئے تھے۔ جن پہ زنگ نے میرے دشمنوں سے وفا کی، میری آنکھوں پہ شریعت نام کے پردے ڈال دئیے گئے تھے۔ ہاتھوں سے کتاب چھین کر، ایک مقدس کتاب مجھے تھما دی گئی، جسے میں پڑھ سکتی تھی۔۔۔ صرف۔۔۔کیونکہ اس کی زبان سے شناسائی نہیں تھی۔۔۔ اور مجھے بےرنگ کرنے کے لئے لفظوں کے رنگ چھین لئے گئے تھے۔ قلم بےباکی کا سبب ہے سو لے لیا گیا۔۔۔۔مزید پڑھیں

شاطر کی بیوی

عمدہ قسم کا سیاہ رنگ کا چمک دار جوتا پہن کر گھر سے باہر نکلنے کا اصل لطف تو جناب جب منہ میں پان بھی ہو، تمباکو کے مزے لیتے ہوئے جوتے پر نظر ڈالتے ہوئے بید ہلاتے جا رہے ہیں۔ یہی سوچ کر میں جلدی جلدی چلتے گھر سے دوڑا۔ جلدی میں پان بھی خود بنایا۔ اب دیکھتا ہوں تو چھالیہ ندارد۔ میں نے خانم کو آواز دی کہ چھالیہ لانا اور انہوں نے استانی جی کو پکارا۔ استانی جی نے واپس مجھے پکارا کہ وہ سامنے طاق میں۔۔۔مزید پڑھیں