ٹھاکر کا کنواں

جوکھو نے لوٹا منھ سے لگایا تو پانی میں سخت بدبو آئی۔ گنگی سے بولا، یہ کیسا پانی ہے؟ مارے باس کے پیا نہیں جاتا۔ گلاسوکھا جارہا ہے اور تو سڑا ہوا پانی پلائے دیتی ہے۔گنگی پرتی دن شام کو پانی بھرلیا کرتی تھی۔ کنواں دور تھا۔ بار بار جانا مشکل تھا۔ کل وہ پانی لائی تو اس میں بو بالکل نہ تھی، آج پانی میں بدبو کیسی؟ لوٹا ناک سے لگایا تو سچ مچ بدبو تھی، ضرور کوئی جانورکنوئیں میں گر کر مرگیا ہو۔۔۔مزید پڑھیں

قبروں کے بیچوں بیچ

کہانی کی کہانی:قحط بنگال پر لکھی گئی ایک درد ناک کہانی۔ کمیونسٹ پارٹی کے نوجوانوں کا ایک گروہ پورے صوبے میں گھوم کر قحط سے مرنے والوں کے آنکڑے جمع کر رہا ہے۔ راستے میں بھوک سے مرنے والوں کی لاشیں اور دوسرے خوفناک منظر دیکھ کر ایک دوسرے سے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے گاؤں میں پہنچتے ہیں جہاں صرف دس لوگ زندہ ہیں۔ نوجوانوں کا یہ گروہ ایک قبرستان میں پہنچتا ہے جہاں انھیں ایک بوڑھیا ملتی ہے۔ بوڑھیا کے سارے بیٹے مر چکے ہیں اور وہ قبر کھود کھود کر۔۔۔۔مزید پڑھیں

رونے کی آواز

سامنے والی کرسی پر بیٹھا ابھی ابھی وہ گا رہا تھا۔ مگر اب کرسی کی سیٹ پر اس کے جسم کے دباؤ کا نشان ہی باقی ہے۔ کتنا اچھا گاتا ہے وہ۔۔۔ مجھے مغربی موسیقی اور شاعری سے کچھ ایسی دلچسپی تو نہیں ہے۔ مگر وہ کم بخت گاتا ہی کچھ اس طرح ہے کہ میں کھو سا جاتا ہوں۔ وہ گاتا رہا اور میں سوچتا رہا،کیا پھول درخت کے سائے تلے واقعی آزاد۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

انگوٹھی کی مصیبت

میں نے شاہدہ سے کہا، تو میں جا کے اب کنجیاں لے آؤں۔ شاہدہ نے کہا، آخر تو کیوں اپنی شادی کے لئے اتنی تڑپ رہی ہے؟ اچھا جا۔ میں ہنستی ہوئی چلی گئی۔ کمرہ سے باہر نکلی۔ دوپہر کا وقت تھا اور سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اماں جان اپنے کمرہ میں سو رہی تھیں اور ایک خادمہ پنکھا جھل رہی تھی۔ میں چپکے سے برابر والے کمرے میں پہنچی اور مسہری کے تکیہ کے نیچے سے کنجی کا۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

بائی کے ماتم دار

کہانی کی کہانی:افسانہ واحد متکلم کی غیر معمولی یادداشتوں سے تشکیل پذیر ہوا ہے۔ بتاتا ہے کہ اسے بچپن میں دلہنوں سے بڑی انسیت تھی انھیں دیکھنا اچھا لگتا تھا لیکن ایک واقعہ ایسا ہوا کہ وہ خوف کھانے لگا واقعہ یہ تھا کہ ایک بار ایک دلہن مر گئی تھی۔ اسے زیوروں سیمت دفنا دیا گیا تھا دفنانے کے بعد اس کے شوہر کو قبر کے پاس بے ہوش پایا گیا تھا۔ ہوش آنے پر معلوم ہوا کہ دلہن کے زیور اس کے جسم میں پیوست ہو گیے تھے۔ زیوروں سے اسے ایک اور واقعہ یاد آتا ہے کہ اس کے سامنے والے اسی مکان میں ایک عورت جسے بائی کہا جاتا تھا اس کا انتقال ہو گیا تو دیکھا گیا کہ ماتم کرنے والی عورتیں ایک ایک کرکے اس کے جسم پر پڑے زیور نظریں بچا کر نوچ لے رہی ہیں۔۔۔۔مزید پڑھیں

یکہ

دس بجے ہیں۔لیڈی ہمت قدر نے اپنی موٹی سی نازک کلائی پر نظر ڈالتے ہوئے جماہی لی۔ نواب ہمت قدر نے اپنی خطرناک مونچھوں سے دانت چمکا کر کہا،گیارہ، ساڑھے گیارہ بجے تک تو ہم ضرور پھو۔۔۔ ہونچ۔۔۔ بغ۔۔۔موٹر کو ایک جھٹکا لگا اور تیوری پر بل ڈال کر نواب صاحب نے ایک چھوکرے کے ساتھ موڑ کا پہئے گڑھے سے نکالا اور عجیب لہجہ میں کہا،لاحول ولا قوۃ کچی۔۔۔۔مزید پڑھیں

میں نے لاکھوں کے بول سہے

خالدہ توفیق درختوں کے جھرمٹ میں نمودار ہو کر سیدھی میری جانب چلی آرہی تھی۔ اس کے بال شانوں پر بکھرے پڑے تھے۔ جن میں اس نے زرد رنگ کے دو جنگلی پھول اڑس رکھے تھے۔ دور سے وہ شانتی نکیتن کی کوئی بنگالی طالب علم معلوم ہو رہی تھی جو آمی کوشی موشی قسم کی باتیں کرتی ہو، لیکن جب وہ قریب پہنچی تو پتہ چلا کہ وہ خالدہ توفیق تھی۔ اور کوشی موشی ہو لو کرنے کے بجائے بہت ہی بڑھیا قسم کی ولایتی زبان بولتی تھی اور جلدی جلدی اس طرح گویا اگلے لمحے اسے ٹرین یا۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

ایک دردمند دل

کہانی کی کہانی:نوجوانوں کے خوابوں کی شکست و ریخت اور ملازمت کا بحران اس کہانی کا موضوع ہے۔ فضل اپنے والد کی خواہش پر لندن میں قانون کی تعلیم حاصل کر رہا ہے لیکن ملک کی خدمت کے جذبہ سے سرشار فضل کا دل قانون کی تعلیم میں نہیں لگتا ہے۔ ذہنی طور پر فرار حاصل کرنے کے لئے وہ ڈانسنگ کا ڈپلوما بھی کر لیتا ہے۔ اتفاق سے اسے ایک لڑکی روز میری مل جاتی ہے جو ملک کی خدمت کے اس کے جذبے سے متاثر ہو کر اس کی معاون بننے کی خواہش ظاہر کرتی ہے۔ فضل فوری طور پر گھر تار دیتا ہے کہ وہ قانون کی تعلیم چھوڑ کر وطن واپس آرہا ہے اور اس نے شادی بھی کر لی ہے۔ بندرگاہ پہ اسے گھر کا ملازم خط دیتا ہے جس میں والد نے اس سے اپنی لا تعقی ظاہر۔۔۔مزید پڑھیں

دوسرا راستہ

کہانی کی کہانی:ملک کے سیاسی حالات پر مبنی کہانی ہے۔ ایک شخص ڈبل ڈیکر کی بس کی بالائی منزل پر بیٹھا بس میں موجود لوگوں اور بس سے باہر کی تصاویر ایک کیمرہ مین کی طرح پیش کر رہا ہے۔ بس میں ایک کتبہ والا شخص ہے جس کے کتبے پر لکھا ہے ۔میرا نصب العین مسلمان حکومت کے پیچھے نماز پڑھنا ہے۔پھر وہ شخص بس میں بیٹھے لوگوں کو مخاطب کر کے سیاسی حالات بیان کرنے لگتا ہے۔ اچانک ایک جلوس راستہ روک لیتا ہے۔ واحد متکلم اور اس کا دوست پریشان ہوتے ہیں کہ منزل تک پہنچ سکیں گے یا۔۔۔۔۔مزید پڑھیں

محبت کی پہچان

پہلے دن جب اس نے وقار کو دیکھا تو وہ اسے دیکھتی ہی رہ گئی تھی۔ اسماء کی پارٹی میں کسی نے اسے ملوایا تھا۔ ان سے ملو یہ وقار ہیں۔ وقار اس کے لیے مکمل اجنبی تھا مگر اس اجنبی پن میں ایک عجیب سی جان پہچان تھی۔ جیسے برسوں یا شاید صدیوں کے بعد آج وہ دونوں ملے ہوں، اور کسی ایک ہی بھولی ہوئی بات کو یاد کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔ دوسری بار شاہدہ کی کوفی پارٹی میں ملاقات ہوئی تھی، اور اس بار بھی بظاہر اس بیگانگی کے اندر وہی یگانگت ان دونوں کو محسوس ہو۔۔۔۔۔مزید پڑھیں