زیور کا ڈبہ

بی۔ اے پاس کرنے کے بعد چندر پرکاش کو ایک ٹیوشن کرنے کے سوا کچھ نہ سوجھا۔ ان کی ماں پہلے ہی مر چکی تھی۔ اسی سال والد بھی چل بسے۔ اور پرکاش زندگی کے جو شیریں خواب دیکھا کرتا تھا، وہ مٹی میں مل گئے۔ والد اعلٰی عہدے پر تھے۔ ان کی وساطت سے چندر پرکاش کوئی اچھی جگہ ملنے کی پوری امید تھی، مگر وہ سب منصوبے دھرے ہی رہ گئے۔ اور اب گزر اوقات کے لئے صرف تیس روپے ماہوار کی ٹیوشن ہی رہ گئی ہے۔ والد نے کوئی جائداد نہ چھوڑی الٹا بھوک کا بوجھ اور سر پر لاد دیا۔ اور بیوی بھی ملی تو تعلیم یافتہ، شوقین، زبان کی طرار جسے موٹا کھانے اور موٹے پہننے کی نسبت مر جانا قبول تھا۔۔۔مزید پڑھیں

وکالت

منظور ہے گزارش احوال واقعی

اپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے

وکالت بھی کیا ہی عمدہ۔۔۔ آزاد پیشہ ہے۔ کیوں؟ سنیے میں بتاتا ہوں۔

پار سال کا ذکر ہے کہ وہ کڑا کے کا جاڑا پڑ رہا تھا کہ صبح کے آٹھ بج گئے تھے مگر بچھو نے سے نکلنے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ لحاف میں بیٹھے بیٹھے چائے پی۔ دو مرتبہ خانم نے لحاف گھسیٹا مگر نہ اٹھنا تھا نہ اٹھا۔ غرض چائے پینے کے بعد اسی طرح اوڑھے لپیٹے بیٹھ کر سگریٹ سلگایا ہی تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک بلی الماری کے پیچھے سے جھانک۔۔۔مزید پڑھیں

میرا ایک سفر

یہ کہانی ہندستانی معاشرے میں مذہب اور ذات پات کی تفریق کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ ریل کےتیسرے درجہ کے ڈبے میں سفر کر رہی تھی جب باتوں ہی باتوں میں ڈبے میں بیٹھی ہندو اور مسلمان عورتوں کے درمیان مذہب اور چھواچھوت کو لیکر جھگڑا شروع ہو جاتا ہے۔ کافی دیر تک وہ یوں ہی بیٹھی ہوئی جھگڑے کو دیکھتی رہتی ہے۔ مگر جب لڑتی ہوئی عورتیں اسے بھی اپنی زد میں لینے کی کوشش کرتی ہیں تو وہ اٹھ کر ایک ایسی دھمکی دیتی ہے کہ سبھی عورتیں آپس میں ایک دوسرے سے معافی مانگنا شروع کر دیتی ہیں۔‘‘

شکنتلا۔۔۔ تم لڑکیاں بھی کتنی بدمذاق ہو، میری گھڑی پیچھے کر دی، اگر ریل چھوٹ۔۔۔مزید پڑھیں

افطار

کہانی میں رمضان کے مہینے میں ہونے والے افطار کے ذریعے مسلم معاشرے کی طبقاتی تقسیم کو دکھایا گیا ہے۔ ایک طرف بھیک مانگنے والے ہیں جو مرنے سے پہلے پیٹ کی آگ کی وجہ سے جہنم جیسی زندگی جی رہے ہیں، دوسری طرف اچھی زندگی جینے والے ہیں جن کے پاس ہر طرح کی سہولتیں ہیں اور وہ دنیا میں جنت جیسا سکھ بھوگ رہے ہیں۔‘‘

روزہ دار روزہ کھلوادے، اللہ تیرا بھلا کرے گا۔ کی صدائیں ڈیوڑھی سے آئیں۔ ڈپٹی صاحب کی بیگم صاحبہ جن کا مزاج پہلے ہی سے چڑچڑا تھا بولیں، ’’نامعلوم کم بخت یہ سارے دن کہاں مر جاتے ہیں۔ روزہ بھی تو چین سے نہیں کھولنے ۔۔۔مزید پڑھیں

ساس

سورج کچھ ایسے زاویہ پر پہنچ گیا کہ معلوم ہوتا تھا کہ چھ سات سورج ہیں جو تاک تاک کر بڑھیا کے گھر میں ہی گرمی اور روشنی پہنچانے پر تلے ہوئے ہیں۔ تین دفعہ کھٹولی دھوپ کے رخ سے گھسیٹی، اور اے لو وہ پھر پیروں پر دھوپ اور جو ذرا اونگھنے کی کوشش کی تو دھمادھم اور ٹھٹوں کی آواز چھت پر سے آئی۔

خدا غارت کرے پیاروں پیٹی کو۔۔۔‘‘ ساس نےبے حیا بہو کو کوسا، جو محلے کے چھوکروں کے۔۔۔مزید پڑھیں

ننھی سی جان

’’تو آپا پھر اب کیا ہوگا؟‘‘

’’اللہ جانےکیا ہوگا۔ مجھے تو صبح سے ڈر لگ رہا ہے۔‘‘، نزہت نے کنگھی میں سے الجھے ہوئے بال نکال کر انگلی پر لپیٹنا شروع کیے۔ ذہنی انتشار سےاس کے ہاتھ کمزور ہوکر لرز رہے تھے اور بالوں کا گچھا پھسل جاتا تھا۔

’’ابا سنیں گے تو بس اندھیر ہو جائے گا۔ خدا کرے انہیں معلوم نہ ہو۔ مجھے ان کے غصہ سے تو ڈر ہی لگتا ہے۔‘‘

’’تم سمجھتی ہو، یہ بات چھپی رہے گی۔ امی کو تو کل ہی شبہ ہوا تھا کہ کچھ دال میں کالا ہے۔ مگر وہ سودے کے دام دینے میں لگ گئیں اور شاید پھر بھول گئیں۔ اور آج تو۔۔۔مزید پڑھیں

ننھی کی نانی

ننھی کی نانی کا ماں باپ کانام تو اللہ جانے کیا تھا۔ لوگوں نے کبھی انہیں اس نام سےیاد نہ کیا۔ جب چھوٹی سی گلیوں میں ناک سڑسڑاتی پھرتی تھیں تو بفاطن کی لونڈیا کے نام سے پکاری گئیں۔ پھر کچھ دن ’’بشیرے کی بہو‘‘ کہلائیں پھر ’’بسم اللہ کی ماں‘‘ کےلقب سے یاد کی جانےلگیں۔ اور جب بسم اللہ چاپے کے اندر ہی ننھی کو چھوڑ کر چل بسی تو وہ ’’ننھی کی نانی‘‘ کے نام سے آخری دم تک پہچانی گئیں۔

دنیا کا کوئی ایسا پیشہ نہ تھا جو زندگی میں ’’ننھی کی نانی‘‘ نے اختیار نہ کیا۔ کٹورا گلاس پکڑنے کی عمر سے وہ تیرے میرے گھر میں دو وقت کی روٹی اور پرانے کپڑوں کے عوض اوپر کے کام پر دھرلی گئیں۔ یہ اوپر کا کام کتنا نیچا ہوتا ہے۔ یہ کچھ کھیلنے کودنےکی عمر سے کام پر جوت دیے جانے والے ہی جانتے ہیں۔ ننھے میاں کےآگے جھنجھنا بجانے کی غیر دلچسپ ڈیوٹی سے لے کر بڑے سرکار کے۔۔۔مزید پڑھیں

کنواری

اس کی سانس پھولی ہوئی تھی۔ لفٹ خراب ہونے کی وجہ سے وہ اتنی بہت سی سیڑھیاں ایک ہی سانس میں چڑھ آئی تھی۔ آتے ہی وہ بےسدھ پلنگ پر گرپڑی اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش رہنے کو کہا۔

میں خود خاموش رہنےکے موڈ میں تھی۔ مگر اس کی حالتِ بد دیکھ کر مجھے پریشان ہونا پڑا۔ اس کا رنگ بے حد میلا اور زرد ہو رہا تھا۔ کھلی کھلی بےنور آنکھوں کےگرد سیاہ حلقے اور بھی گہرے ہوگئے تھے۔ منہ پر میک آپ نہ تھا۔ خاص طور پر لپ اسٹک نہ ہونے کی وجہ سے وہ بیمار اور بوڑھی لگ رہی تھی۔ مجھے معلوم ہوگیا کہ میرے بتائے ڈاکٹر کا علاج تسلی بخش ثابت ہوا۔ اس کا پیٹ اندر کو دھنسا ہوا تھا اور سینہ سپاٹ ہوگیا تھا۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس قتل کی میں بھی کچھ ذمہ دار ہوں۔ مگر میں ۔۔۔مزید پڑھیں

جوانی

جب لوہے کے چنے چب چکے تو خدا خدا کر کے جوانی بخار کی طرح چڑھنی شروع ہوئی۔ رگ رگ سے بہتی آگ کا دریا امنڈ پڑا۔ الھڑ چال، نشہ میں غرق، شباب میں مست۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ کل پاجامے اتنے چھوٹے ہو گئے کہ بالشت بالشت بھر نیفہ ڈالنے پر بھی اٹنگے ہی رہے۔ خیر اس کا تو ایک بہترین علاج ہے کہ کندھے ذرا آگے ڈھلکا کر ذرا سا گھٹنوں میں جھول دے دیا جائے۔ ہاں ہاں ذرا چال کنگارو سے ملنے لگے گی۔

بال ہیں کہ قابو ہی میں نہیں۔ لٹیں پھسلی پڑتی ہیں۔ بال بہے جاتے اور مانگ؟ مانگ تو غائب! اگر ماں۔۔۔مزید پڑھیں

جڑیں

سب کے چہرے فق تھے گھر میں کھانا بھی نہ پکا تھا۔ آج چھٹا روز تھا۔ بچے اسکول چھوڑے گھروں میں بیٹھے اپنی اور سارے گھر والوں کی زندگی وبال کیے دے رہے تھے۔ وہی مارکٹائی، دھول دھپا، وہی اودھم اور قلابازیاں جیسے ۱۵اگست آیا ہی نہ ہو۔ کمبختوں کو یہ بھی خیال نہیں کہ انگریز چلے گیے اور چلتے چلتے ایسا گہرا گھاؤ مار گیے جو برسوں رسے گا۔

ہندوستان پر عمل جراحی کچھ ایسے لنجے ہاتھوں اور گھٹل نشتروں سے ہوا ہے کہ ہزاروں شریانیں کٹ گئی ہیں۔ خون کی ندیاں بہہ رہی ہیں۔ کسی میں اتنی سکت نہیں کہ ٹانکہ لگا سکے۔۔۔مزید پڑھیں