سیاہ و سفید

میمونہ بیگم ایک اسکول میں استانی ہے۔ اپنی تنخواہ میں سے تھوڑا تھوڑا بچا کر سو روپے جوڑ لیتی ہے۔ اس روپے سے وہ اپنے لیے کوئی زیور بنوانا چاہتی ہے۔ لیکن تبھی اس کی بہن کا خط آتا ہے اور وہ اسے دلی گھومنے کے لیے بلا لیتی ہے۔ دہلی میں بہن کے ساتھ گھومتے ہوئے وہ ایک نوجوان کو دیکھتی ہے۔ پہلے دن وہ اسے دیکھ کر خوش ہوتی ہے لیکن دوسرے دن اس کی اصلیت جان کر وہ گھبرا جاتی ہے۔ دہلی سے واپس جاتے ہوئے بچائے گیے اپنے سو روپے کا یوں برباد ہو جانا اسے بہت تکلیف دیتا ہے۔’’

جی۔ اے۔ وی۔ مڈل اسکول کی استانی میمونہ بیگم آئینے کے سامنے کھڑی اپنے۔۔۔مزید پڑھیں

سایہ

جدید معاشرے میں انسانی قدروں کو زندہ رکھنے والے ایک مزدور پیشہ انسان کی کہانی۔ سبحان نامی شخص شہر کے مشہور وکیل صاحب کے گھر کے باہر ٹھیلہ لگاتا ہے جو نسبتاً ایک غیرآباد علاقہ میں ہے۔ سبحان کی آمدنی کا سارا دارومدار وکیل صاحب کے کنبہ پر ہی ہے۔ وکیل صاحب بھی اس بات کا خیال رکھتے ہیں اور گھر کے افراد کو ہدایت کر رکھی ہے کہ وہ سبحان کے یہاں سے ہی سامان خریدنے کو ترجیح دیں۔ سبحان دھیرے دھیرے وکیل صاحب کے افراد خانہ کے عادات و اطوار اور گھر کی معمولی سے معمولی باتوں سے بھی واقف ہو جاتا ہے۔ اسے وکیل صاحب کے گھر سے یک گونہ انسیت ہو جاتی۔۔۔مزید پڑھیں

بردہ فروش

عورت کی ازلی بے بسی، مجبوری اور استحصال کی کہانی۔ مائی جمی نے بردہ فروشی کا نیا طریقہ ایجاد کیا ہے۔ وہ کسی ایسے بڈھے کو تلاش کرتی جو نوجوان لڑکی کا خواہش مند یا ضرورت مند ہوتا اور پھر ریشماں کو بطور بیوی بھیج دیتی۔ ریشما چند دن میں گھر کے زیور اور روپے پیسے چرا کر بھاگ آتی اور نئے گاہک کی تلاش شروع ہو جاتی۔ لیکن چودھری گلاب کے یہاں ریشماں کا دل لگ جاتا ہے اور وہ وہاں سےجانا نہیں چاہتی ہے۔ مائی جمی انتقاماً پرانے گاہک یا شوہر کرم دین کو اطلاع کر دیتی ہے اور وہ آکر گلاب چند کو ساری صورت حال بتاتا ہے۔گلاب چند آگ ببولا ہوتا ہے۔ حق ملکیت کے لئے دونوں میں۔۔۔مزید پڑھیں

سرخ جلوس

اپنے حقوق کے تئیں نچلے طبقے کی بیداری کی ایک دلچسپ کہانی ہے۔ امریکی عورت مس گلبرٹ ہندوستان صرف اس غرض سے آتی ہے کہ اسے یہاں کی تحریکوں، ستیہ گرہ اور جلسے جلوس کو دیکھنے کا شوق تھا۔ لیکن آزادی کے فوراً بعد یہ سارے ہنگامے ختم ہو چکے تھے۔ جس کی وجہ سے وہ افسردہ رہتی تھی۔ ہوٹل کے اسسٹنٹ منیجر کا دوست ریاض گلبرٹ کی افسردگی دور کرنے کی غرض سے اپنی ذہانت سے ایک غیر آباد علاقہ میں فرضی جلوس کا اہتمام کرتا ہے۔ سائیسوں کا یہ جلوس گلبرٹ ایک فلیٹ کی بالکنی پر بیٹھ کر دیکھتی ہے۔ مسرور ہو کر وہ سائیسوں کی مدد کے لئے چیک کاٹ کر۔۔۔مزید پڑھیں

سرخ گلاب

ذہنی طور پر معذور ایک یتیم لڑکی کی کہانی جو گاؤں کے لوگوں کی خدمت کر کے اپنا پیٹ پالتی ہے۔ گاؤں کے پاس ہی چن شاہ کی مزار تھی جہاں ہر سال عرس لگتا تھا۔ اس سال وہ بھی چن شاہ کے عرس کے میلے میں گئی تھی اور وہاں اسے حمل ٹھہر گیا۔ گاؤں والوں کو اس کے حمل کے بارے میں پتہ چلا تو انھوں نے اسے گاؤں سے باہر نکال دیا۔ اگلے سال وہ اپنے نوزائیدہ بچے کے ساتھ پھر چن شاہ کی مزار پر نمودار ہو گئی۔۔۔مزید پڑھیں

ناک کاٹنے والے

مرد اساس معاشرے میں طوائف کو کن کن مورچوں پر لڑنا پڑتا ہے۔ اس کی ایک جھلک اس افسانہ میں پیش کی گئی ہے۔ ننھی جان کی غیر موجودگی میں تین پٹھان اس کے کوٹھے پر آتے ہیں اور اس کے دو ملازمین سے چاقو کے دم پر زور زبردستی اور بدتہذیبی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وہ ننھی جان کی ناک کاٹنے کا عندیہ ظاہر کرتے ہیں۔ کافی دیر انتظار کے بعد وہ تھک ہار کر واپس چلے جاتے ہیں۔ ان کے جانے کے بعد ہی ننھی جان لوٹتی ہے۔ ننھی جان اپنے ملازمین کو تسلی دے کر سونے چلی جاتی ہے اور اس کے ملازم آپس میں قیاس آرائی کرتے رہتے ہیں کہ فلاں یا فلاں نے رقابت اور حسد میں ان غنڈوں کو بھیجا۔۔۔مزید پڑھیں

مجسمہ

ایک بادشاہ کی اپنی ملکہ سے بے انتہا محبت کی کہانی ہے۔ باشاہ کی خواہش یہ تھی کہ ملکہ اس سے وارفتگی سے اپنی محبت کا اظہار کرے لیکن ملکہ شاہی آداب کی پابندی کرتی تھی۔ جس کی وجہ سے بادشاہ افسردہ رہنے لگا اور اس نے اپنے غم سے نجات پانے کے لئے ایک خوبصورت مجسمے میں پناہ لی۔ مجسمہ کی طرف حد سے بڑھی ہوئی توجہ نے ملکہ کو بیدار کیا اور اس نے مجسمہ کے اعضا کو وقفہ وقفہ سے ایک ایک کرکے کاٹ ڈالا لیکن بادشاہ کی محویت میں کوئی فرق نہ آیا۔ ایک دن ملکہ نے۔۔۔مزید پڑھیں

فرار

فرار در اصل ایک حساس لیکن بزدل انسان کی کہانی ہے۔ ماموں جو اس کہانی کے مرکزی کردار ہیں، فطری طور پر سست اور آرام پسند واقع ہوئے ہیں، اسی وجہ سے وہ میٹرک کا امتحان بھی نہ پاس کر سکے۔ نمائش میں جو لڑکی انہیں شادی کے لئے پسند آتی ہے اس کے والد تین شرطیں رکھتے ہیں، اول یہ کہ ان کا داماد خوبصورت ہو، دوئم کم از کم گریجویٹ ہو اور سوئم یہ کہ دو لاکھ مہر دینے کی استطاعت رکھتا ہو۔ ماموں نے یہ چیلنج قبول کیا۔ بھائیوں نے اپنی اپنی جائداد بیچنے کا فیصلہ کیا اور ماموں نے تین سال میں گریجویٹ بن کر دکھا دیا۔ لیکن شادی کے دن عین نکاح کے موقع پر وہ شادی ہال سے فرار ہو جاتے۔۔۔مزید پڑھیں

ہندوستان چھوڑ دو

صاحب مرگیا‘‘، جینت رام نے بازار سے سودے کے ساتھ یہ خبر لاکر دی۔۔۔ ‏

‏’’صاحب! کون صاحب؟‘‘ ‏

‏’’وہ کانڑیا صاحب تھانا۔‘‘ ‏

‏’’او کانا صاحب۔ جیکسن۔۔۔ چہ، بے چارا۔‘‘ میں نے کھڑکی میں سے جھانک کر ‏دیکھا۔ کائی لگی پرانی جگہ جگہ سے کھونڈی بتیسی کی طرح منہدم ہوتی ہوئی دیوار ‏کے اس پار ادھڑے ہوئے سیمنٹ کے چبوترے پر سکھوبائی پیر پسارے بیٹھی مراہٹی ‏زبان میں بین کر رہی تھی۔ اس کے پاس پٹوا کڑوں بیٹھا ہچکیوں سے رو رہا تھا۔ پٹو ‏یعنی پیٹر، کالے گورے میل کا نادر نمونہ، اس کی آنکھیں جیکسن صاحب کی طرح ‏نیلی اور بال بھورے تھے۔ رنگ گندمی تھا جو دھوپ میں جل کر بالکل تانبے۔۔۔مزید پڑھیں

مغل بچہ

وہ مرتے مرگیا مگر مغلیہ شہنشاہیت کی ضد کو بر قرار رکھا۔

فتح پور سیکری کے سنسان کھنڈروں میں گوری دادی کا مکان پرانے سوکھے زخم کی طرح کھٹکتا تھا۔ کگیا اینٹ کا دو منزلہ گھٹا گھٹا سا مکان ایک مار کھائے روٹھے ہوئے بچے کی طرح لگتا تھا۔ دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا وقت کا بھونچال اس کی ڈھٹائی سے عاجز آکر آگے بڑھ گیا اور شاہی شان و شوکت پر ٹوٹ پڑا۔

گوری دادی سفید جھک چاندنی بچھے تخت پر سفید بے داغ کپڑوں میں ایک سنگ۔۔۔مزید پڑھیں