بھول بھلیاں

’’لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ۔ کویک مارچ!‘‘ اڑا اڑادھم! فوج کی فوج کرسیوں اور میزوں کی خندق اور کھائیوں میں دب گئی اور غل پڑا۔

’’کیا اندھیر ہے۔ ساری کرسیوں کا چورا کیے دیتے ہیں۔ بیٹی رفیعہ ذرا ماریو تو ان مارے پیٹوں کو۔‘‘ چچی ننھی کو دودھ پلارہی تھیں۔ میرا ہنسی کےمارے براحال ہوگیا۔ بمشکل مجروحین کو کھینچ کھانچ نکالا۔ فوج کا کپتان تو بالکل چوہے کی طرح ایک آرام کرسی اور دو اسٹولوں کے بیچ میں پچا پڑا تھا۔

’’آں۔۔۔ آں صلو بھیا نے کہا تھا فوج فوج کھیل،‘‘ رشید اپنی کاغذ کی ٹوپی سیدھی کرنے لگے اور منو اپنے چھلے ہوئے گھٹنے کو ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے گھور گھور کر بسور رہے تھے۔ اچھن، چچا جان کے کوٹ میں سے باہر نکلنے کے لیے ۔۔۔مزید پڑھیں

ٹوٹو

میں سوچ رہا تھا:

دنیا کی سب سے پہلی عورت جب ماں بنی تو کائنات کا رد عمل کیا تھا؟دنیا کے سب سے پہلے مرد نے کیا آسمانوں کی طرف تمتماتی آنکھوں سے دیکھ کر دنیا کی سب سے پہلی زبان میں بڑے فخر کے ساتھ یہ نہیں کہا تھا، ’’میں بھی خالق ہوں۔‘‘

ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ میرے آوارہ خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ بالکنی سے اٹھ کر میں اندر کمرے میں آیا۔ ٹیلی فون ضدی بچے کی طرح چلائے جارہا تھا۔ٹیلی فون بڑی مفید چیز ہے،مگر مجھے اس سے نفرت ہے،اس لیے کہ یہ وقت بے وقت بجنے لگتا ہے۔۔۔ چنانچہ بہت ہی بددلی سے میں نے ریسیور اٹھایا اور نمبر بتایا، ’’فور فور۔۔۔مزید پڑھیں

یزید

کریم داد ایک ٹھنڈے دماغ کا آدمی ہے جس نے تقسیم کے وقت کے فساد کی ہولناکیوں کو دیکھا تھا۔ ہندوستان پاکستان جنگ کے تناظر میں یہ افواہ اڑتی ہے کہ  ہندوستان والے پاکستان کی طرف آنے والے دریا کا پانی بند کر رہے ہیں۔ اسی دوران اس کے یہاں ایک بچے کی ولادت ہوتی ہے جس کا نام وہ یزید رکھتا ہے اور کہتا ہے اس یزید نے دریا بند کیا تھا، یہ کھولے گا۔’’

سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح موسم میں خلافِ معمول چند دن خراب آئیں اور چلے جائیں۔ یہ نہیں کہ کریم داد، مولا کی مرضی سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا۔ اس نے اس طوفان کا مردانہ۔۔۔مزید پڑھیں

اوپر نیچے اور درمیان

طبقہ اشرافیہ کے نفاق اور ان کے تکلفات پر مبنی ایک ایسی کہانی ہے جس میں عمر دراز میاں بیوی کے خواب گاہ کے معاملات کو دل چسپ پیرایہ میں بیان کیا گیا ہے۔’’

میاں صاحب: بہت دیرکے بعد آج مل بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے۔

بیگم صاحبہ: جی ہاں!

میاں صاحب: مصروفیتیں۔۔۔ بہت پیچھے ہٹتا ہوں مگر نااہل لوگوں کا خیال کرکے قوم کی پیش کی ہوئی ذمہ داریاں سنبھالنی ہی پڑتی ہیں۔

بیگم صاحبہ: اصل میں آپ ایسے معاملوں میں بہت نرم دل واقع ہوئے ہیں، بالکل میری طرح۔۔۔مزید پڑھیں

غیرت کی کٹار

کتنا افسوسناک، کتنا پردرد سانحہ ہے کہ وہی نازنین جو کبھی ہمارے گوشۂ جگر میں بستی تھی، اسی کے گوشۂ جگر میں چبھنے کے لیے ہمارا خنجر آبدار بیقرار ہورہا ہو۔ جس کی آنکھیں ہمارے لئے آبِ حیات کے چھلکتے ہوئے ساغر تھیں، وہی آنکھیں ہمارے دل میں شعلہ اور خون کا طوفان برپا کریں۔ حسن اسی وقت تک مایۂ راحت و شادمانی ہے۔ نعمت روحانی، جب تک اسکے قالب میں عصمت کی روح حرکت کررہی ہو۔ ورنہ وہ مایۂ شر ہے۔ زہرا ور عفونت سے لبریز، اسی قابل کہ وہ ہماری نگاہوں سے دور رہے اور پنجہ و ناخن کا شکار بنے۔

ایک زمانہ وہ تھا کہ نعیمہ، حیدر کے آرزوؤں کی دیوی تھی۔ طالب و مطلوب کی تمیز نہ تھی۔ ایک طرف کامل دلجوئی تھی۔ دوسری طرف کامل رضا۔ تب تقدیر نے پانسہ پلٹا۔گل و بلب میں نسیم کی ۔۔۔مزید پڑھیں

یہ میری مادر وطن ہے!

آج پورے ساٹھ سال کے بعد مجھے اپنے وطن، پایرے وطن کا دیدار پھر نصیب ہوا۔ جس وقت میں اپنے پیارے دیس سے رخصت ہوا او رمجھے قسمت مغرب کی جانب لے چلی، اس وقت میں کڑیل جوان تھا۔ میری رگوں میں تازہ خون دوڑتا تھا اور یہ دل امنگوں اور بڑے بڑے ارادوں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھے بھارت ورش سے کسی ظالم کے جوروجبر یا انصاف کے زبردست ہاتھوں نے نہیں جدا کیا تھا، نہیں۔ ظالم کا ظلم اور قانون کی سختیاں مجھ سے جو چاہیں کراسکتی ہیں۔۔۔ مگر مجھ سے میرا وطن نہیں چھڑا سکتیں۔ یہ میرے بلند ارادے اور بڑے بڑے منصوبے تھے جنہوں نے مجھے دیس سے جلا وطن کیا۔۔۔ میں نے امریکہ میں خوب تجارت کی، خوب دولت کمائی اور خوب عیش کیے۔ خوبیٔ قسمت سے بیوی بھی ایسی پائی جو حسن میں اپنی آپ ہی نظیر تھی۔ جس کی۔۔۔مزید پڑھیں

قلندر

غازی پور کے گورنمنٹ ہائی اسکول کی فٹ بال ٹیم ایک دوسرے اسکول سے میچ کھیلنے گئی تھی۔ وہاں کھیل سے پہلے لڑکوں میں کسی چھوٹی سی بات پر جھگڑا ہوا اور مارپیٹ شروع ہوگئی۔ اور چونکہ کھیل کے کسی پوائنٹ پر جھگڑا شروع ہوا تھا، تماشائیوں اور اسٹاف نے بھی دل چسپی لی۔ جن لڑکوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی انہیں بھی چوٹیں آئیں اور ان میں میرے بھائی بھی شامل تھے جو گورنمنٹ ہائی اسکول کی نویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ ان کے ماتھے میں چوٹ لگی اور ناک سے خون بہنے لگا۔ اب ہنگامہ سارے میدان میں پھیل گیا۔ بھگدڑ مچ گئی اور جو لڑکے زخمی ہوئے تھے اس ہڑبونگ میں ان کی خبر کسی نے نہ لی۔ اس پس ماندہ ضلع میں ٹیلیفون عنقا تھے۔ سارے شہر میں صرف چھ موٹریں تھیں اور ہاسپیٹل ایمبولنس کا تو سوال ہی پیدا نہیں۔۔۔مزید پڑھیں

لکڑ بگّے کی ہنسی

ہمالیہ اور شوالک کی درمیانی وادیاں ’ڈون‘ کہلاتی ہیں (جن میں سے ایک دہرہ دون ہے) سوا سو مربع میل پر پھیلا ہوا کوربٹ نیشنل پارک بھی ضلع نینی تال کی ایک ڈون میں واقع ہے۔ رام گنگا پہاڑوں سے اتر کر کوربٹ نیشنل پارک میں داخل ہوتی ہے۔ اس کے ایک کنارے پر پہاڑی سلسلہ ہے۔ دوسرے پر سال کا گھنا بن۔۔۔

جنگل میں شیر اور چیتے اور ہرن رہتے ہیں، رام گنگا میں گھڑیال، جو ہمارے وقت سے علاحدہ، جیو لوجیکل ٹائم اور ڈینو ساروں کے عہد سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہاتھیوں اور دریائی گھوڑوں کی طرح جب کوئی جیپ جنگل کی سڑک ۔۔۔مزید پڑھیں

ٹوٹتے تارے

انجیر اور زیتون کے درختوں اور ستارۂ سحری کے پھولوں سے گھری ہوئی کسی جھیل کے خاموش اور پر سکون پانیوں میں زور سے ایک پتھر پھینکنے سے لہروں کا لحظہ بہ لحظہ پھیلتا ہوا ایک دائرہ سا بن جاتا ہے نا! یا جب کوئی تھکا ہارا مطرب رات کے پچھلے پہر اپنے رباب پر ایک آخری مضراب لگا کر ساز کو ایک طرف رکھ دیتا ہے اور اس کے نقرئی تاروں میں سے جو لرزتا، دم توڑتا ہوا آخری نغمہ بلند ہوتا ہے۔ یا پھرجیسے سفید یاسمین کی معصوم کلیوں کی مہک کی تیز لپٹوں میں ملفوف ہوا کا ایک جھونکا صبح ہوتے چپکے سے اندر داخل ہو کر شمع کو بجھا دیتا اور پھر اس بجھی ہوئی شمع میں سے جو ہلکا سا غمگین سا دھواں لہراتا ہوا اوپر کو اٹھتا ہے نا۔۔۔مزید پڑھیں

روشنی کی رفتار

کہانی ’روشنی کی رفتار‘ قرۃالعین حیدر کی بے پناہ تخلیقی صلاحیتوں کی عکاسی کرتی ہے۔ کہانی میں حال سے ماضی کے سفر کی داستان ہے۔ صدیوں کے فاصلوں کو لانگھ کر کبھی ماضی کو حال میں لاکر اور کبھی حال کو ماضی کے اندر بہت اندر لے جا کر انسانی زندگی کے اسرار و رموز کو دیکھنے، سمجھنے اور اسکے حدود و امکانات کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے۔’’

(ڈاکٹر (مس) پدما میری ابراہام کٌرین۔ عمر ۲۹ سال۔ تعلیم، ایم۔ ایس۔ سی۔ (مدراس) پی ایچ۔ ڈی (کولمبیا) قد، پانچ فٹ ۲ انچ۔ رنگت، گندمی۔ آنکھیں، سیاہ۔ بال، سیاہ۔ شناخت کا نشان، بائیں کنپٹی پر بھورا تل۔ وطن، کوچین (ریاست کیرالا)۔۔۔مزید پڑھیں