’’لفٹ رائٹ، لفٹ رائٹ۔ کویک مارچ!‘‘ اڑا اڑادھم! فوج کی فوج کرسیوں اور میزوں کی خندق اور کھائیوں میں دب گئی اور غل پڑا۔
’’کیا اندھیر ہے۔ ساری کرسیوں کا چورا کیے دیتے ہیں۔ بیٹی رفیعہ ذرا ماریو تو ان مارے پیٹوں کو۔‘‘ چچی ننھی کو دودھ پلارہی تھیں۔ میرا ہنسی کےمارے براحال ہوگیا۔ بمشکل مجروحین کو کھینچ کھانچ نکالا۔ فوج کا کپتان تو بالکل چوہے کی طرح ایک آرام کرسی اور دو اسٹولوں کے بیچ میں پچا پڑا تھا۔
’’آں۔۔۔ آں صلو بھیا نے کہا تھا فوج فوج کھیل،‘‘ رشید اپنی کاغذ کی ٹوپی سیدھی کرنے لگے اور منو اپنے چھلے ہوئے گھٹنے کو ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں سے گھور گھور کر بسور رہے تھے۔ اچھن، چچا جان کے کوٹ میں سے باہر نکلنے کے لیے ۔۔۔مزید پڑھیں









