فوٹوگرافر

شمال مشرق کے ایک پرسکون قصبے میں واقع ایک ڈاک بنگلے کے فوٹوگرافر کی کہانی۔ ڈاک بنگلے میں گاہے ماہے ٹورسٹ آتے ہیں، جن سے کام پانے کی غرض سے اس نے ڈاک بنگلے کے مالی سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ انھیں ٹورسٹوں میں ایک شام ایک نوجوان جوڑا ڈاک بنگلے میں آتا ہے۔ نوجوان موسیقار ہے اور لڑکی رقاصہ۔ دونوں بےحد خوش ہیں اور اگلے دن باہر گھومنے جاتے وقت وہ فوٹوگرافر سے فوٹو بھی کھینچواتے ہیں، لیکن لڑکی فوٹو ساتھ لے جانا بھول جاتی ہے۔ پندرہ سال بعد اتفاق سے لڑکی پھر اسی ڈاک بنگلے میں آتی ہے اور فوٹو گرافر کو وہاں پا کر حیران ہوتی ہے۔ فوٹو گرافر بھی اسے پہچان لیتا ہے اور اسکے ساتھی کے بارے میں پوچھتا ہے۔ ساتھی جو زندگی کی رفتار میں کہیں کھو گیا اور اسے کھوئے ہوئے مدت ہو گئی۔۔۔مزید پڑھیں

جواری

یہ ایک معلوماتی اور مزاحیہ انداز میں لکھی گئی کہانی ہے۔ جواریوں کا ایک گروہ بیٹھا ہوا تاش کھیل رہا تھا کہ اسی وقت پولیس وہاں چھاپا مار دیتی ہے۔ پولیس کے پکڑے جانے پر ہر جواری اپنی عزت اور کام کو لے کر پریشان ہوتا ہے۔ جواریوں کا سرغنہ نکو انھیں دلاسہ دیتا ہے کہ تھانیدار اس کا جاننے والا ہے اور جلد ہی وہ چھوٹ جائیں گے۔ لیکن جواریوں کو چھوڑنے سے قبل تھانیدار انھیں جو سزا دیتا ہے وہ کافی دلچسپ ہے۔’’

پولیس نے ایسی ہوشیاری سے چھاپہ مارا تھا کہ ان میں سے ایک بھی بچ کر نہیں نکل سکا تھا اور پھر جاتا تو کہاں، بیٹھک کا ایک ہی زینہ تھا جس پر پولیس کے سپاہیوں نے پہلے ہی قبضہ جما لیا تھا۔ رہی کھڑکی۔۔۔مزید پڑھیں

ہمسائے

ایک پہاڑی پر دو مکان ہیں۔ در اصل ایک ہی مکان کو درمیان میں دیوار کھڑی کر کے دو مکان بنا دیے گیے ہیں۔ ان مکانوں میں تین بچےرہتے ہیں، ایک میں دو بھائی اکبر اور اس کا چھوٹا بھائی اور دوسرے میں بیری۔ بیری کے لیے اکبر کےدل میں محبت، پہاڑی آب و ہوا اور ان تینوں کی دلچسپ گفتگو کو بنیاد بناکر کہانی بنی گئی ہے۔’’

اس پہاڑی پر وہ فقط دو ہی گھر تھے۔ مکان تو اصل میں ایک ہی تھا۔ مگر بعد میں اس کے مالک نےاس کے بیچوں بیچ لکڑی کی ایک پتلی سی دیوار ‏کھڑی کرکے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا۔ اور اب اس میں الگ الگ ۔۔۔مزید پڑھیں

بندر والا

والدین اپنی خواہشوں کی تکمیل کے لئے کس طرح بچوں سے ان کا بچپن چھین لیتے ہیں، یہ اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے۔ مسٹر شاہ ایک بڑے عہدے پر فائز ہیں۔ آئے دن لوگوں کی دعوتیں کرتے ہیں جس سے یہ خیال ہوتا ہے کہ وہ انتہائی خلیق و ملنسار ہیں لیکن در اصل اس دعوت کے بہانے انہیں اپنے چار سالہ بچے کی نمائش مقصود ہوتی ہے جسے انہوں نے غالب کے اشعار سمیت بہت کچھ پڑھا سکھا رکھا ہے۔ وہ جاپانی جوڈو بھی جانتا ہے۔ مصنف نے اس بچے کو بندر اور مسٹر شاہ کو بندر والے سے تشبیہ دی ہے۔ جس طرح بندر والے کو اپنا تماشا دکھانے کے لئے ڈگڈگی کا سہارا لینا پڑتا ہے اسی طرح مسٹر شاہ کو دعوتوں کا۔۔۔مزید پڑھیں

اندھیرے میں

بیمار باپ کو شراب پیتے دیکھ کر اس کا اکلوتا بیٹا چراغ پا ہو جاتا ہے اور اس بات پر دیر تک ان میں بحث ہوتی ہے کہ شراب جب اس کے لئے مضر ہے تو وہ آخر پیتا ہی کیوں ہے۔ وہ اس گھر کو چھوڑ کر چلا جائے گا۔ باپ بیٹے کی منت سماجت کر کے اسے مناتا ہے اور یہ طے پاتا ہے کہ بچی ہوئی شراب بیٹا کہیں بیچ آئے۔ متقی، پرہیزگار بیٹا رات کے سناٹے میں اسے بیچنے کی کوشش میں ناکام ہو کر ایک بنچ پر آکر بیٹھ جاتا ہے۔ وہاں ایک مرد اور ایک عورت وہسکی کی مستی میں سرشار نظر آتے ہیں۔ان کی گفتگو سے عنفوان شباب کی آگہی ہوتی ہے اور اس نوجوان کو نئی دنیا میں لے جاتی ہے۔ وہ شراب کے سلسلہ میں کافی دیر تک غور و فکر کرتا رہتا ہے اور بالآخر شراب پی کر گھر واپس لوٹ آتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

قربانی

انسان کی حیثیت کا سب سے زیادہ اثر غالباً اس کے نام پر پڑتا ہے، منگرو ٹھاکر جب سے کانسٹبل ہوگئے ہیں، ان کا نام منگل سنگھ ہوگیا ہے۔ اب انھیں کوئی منگرو کہنے کی جرات نہیں کرسکتا۔ کلو اہیر نے جب سے تھانہ دار صاحب سے دوستی کی ہے اور گاؤں کا مکھیا ہوگیا ہے۔ اس کا نام کالکا دین ہوگیا ہے، اب کوئی کلّو کہے تو وہ آنکھیں لال پیلی کرتا ہے اسی طرح ہرکھ چندکورمی اب ہرکھو ہوگیا ہے، آج سے بیس سال پہلے اس کے یہاں شکر بنتی تھی، کئی ہل کی کھیتی ہوتی تھی۔ کاروبار خوب پھیلا ہوا تھا، لیکن بدیسی شکر کی آمد نے اسے اتنا نقصان پہونچایا کہ رفتہ رفتہ کارخانہ ٹوٹ گیا۔ ہل ٹوٹ گئے۔ کاروبار ٹوٹ گیا۔ زمین ٹوٹ گئی اور وہ خود ٹوٹ گیا۔ ستر۷۰ برس کا بوڑھا ایک تکیہ دار ماچے پر بیٹھا ہوا ناریل پیا کرتا تھا۔ اب سر پر ٹوکرلے کے کھاد پھینکنے جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

وجود

کیا میں زندہ ہوں،وجود رکھتی ہوں، موجود ہوں؟

نہیں نہیں میں موجود نہیں ہوں، میں صرف ماضی، حال اور مستقبل کے ربط کے ساتھ تن تنہا موجود کیسے ہو سکتی ہوں، میں کھو چکی ہوں کہیں،میں نے ماریہ پر نظر ڈالی وہ موجود تھی مگر میں نہیں تھی۔ میں نے آہستہ سے اس کو آواز دی! ماریہ

ہوں! کہہ کر اس نے میری طرف دیکھا، ماریہ کیا میں تمہیں نظر آ رہی ہوں؟ ہاں ہاں تم موجود ہو مجھے نظر آ رہی ہو۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا، تمہیں کیا ہو جاتا ہے کبھی کبھار! وہ فکر مندی کے انداز میں بولتی ہوئی میرے قریب آ گئی اور میرے پاس بیٹھ کر اپنا بازو میرے کندھے پر رکھ کر تشویش بھری نظروں سے مجھے دیکھنے لگی۔۔۔مزید پڑھیں

تصویر

آؤ، آؤ یہاں بیٹھو اس صوفے پر سفید بالوں والے پینسٹھ سالہ آدمی نے اس کو نشست گاہ کی دروازے کے سامنے والی پچھلی دیوار کے ساتھ لگے صوفے پر بٹھا دیا اور خود دوبارہ بغلی کمرے میں غائب ہو گیا۔ وہ خاموشی کے ساتھ سکڑ کر وہاں بیٹھ گئی جب گھونگریالے سفید بالوں والا وہ پینسٹھ سالہ مصور دوبارہ نشست گاہ کی طرف لوٹا تو وہ آس پاس کی دیواروں کا جائزہ لے چکی تھی وہ اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا تو تیسری دیوار کی طرف گھورنے کا آپشن بھی ختم ہو گیا۔ اس کی نظر دوبارہ دائیں طرف والی دیوار کی طرف اٹھ گئی شاہکار تصویر تھی برتھ آف اپالو؟ اس نے مصور کی طرف سوالیہ دیکھا ہاں مصور کی۔۔۔مزید پڑھیں

کمرے سے کمر ے تک

پہلے پہل جب اس نے ہوش سنبھالا تو کمرے کی چھت کو نہایت کہنہ، بوسیدہ اور دریدہ پایا۔ لکڑی کا پکھراور بالے کالے چیونٹے کھا چکے تھے۔ گاہے گاہے بھربھری مٹی چھت سے فرش پر ٹپکا کرتی تھی۔ اسی چھت کے نیچے اس کی ماں کے جہیز میں آئے ہوئے دھات کے دو بڑے صندوق سامنے والی دیوار کے ساتھ لکڑی کی کمزور چوکیوں پر دھرے تھے۔ ایک صندوق جس کا ڈھکن پورا تھا۔ اس کے اندر ماں نے اپنی ماں کے ہاتھوں کی بنی دو لائیاں، رضائیاں، دریاں، کھیس، تکیے اور سرہانے رکھ چھوڑے تھے۔ جن کو وہ کبھی کبھار کسی شادی یا فوتگی پر ہی نکالا کرتی تھی یا پھر بدلتے موسموں میں ان کو نکال کر دھوپ لگوایا کرتی۔ جب وہ صندوق۔۔۔مزید پڑھیں

کبالہ

تو یوں ہے کہ وہ ایک فنکار کی باہوں میں مر گئی۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب اس نے ایک نیا حکمنامہ حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا۔ میں عدالت کی بجائے عدالت عالیہ کا لفظ استعمال کروں تو زیادہ بہتر ہوگا۔ اسے عدالت عالیہ سے بڑی امیدیں تھیں کہ وہ اس کی بات ضرور سنیں گے اور ایسا قانون ضرور جاری کریں گے جس کے نفاذ کی وہ خواہاں تھی۔ یہ جانے بغیر کہ کیا آزاد اور مہذب معاشروں میں اس طرح کے کسی قانون کی جگہ بھی ہے یا نہیں۔ مجھے حیرت ہوتی تھی کہ آخر وہ اپنے رومانیت زدہ خوابوں کی تکمیل کے لیے قانون کی راہ کیوں اپنانا چاہتی ہے۔ کیا سماج کی نظر میں معزز کہلانا اتنا ہی ضروری ہے۔ اگر بہت ضروری ہے تو پھر وہ اپنی خواہشات کی۔۔۔مزید پڑھیں