رات کے چاک پر انگڑائی لیتی ملگجی صبح، اپنے بدن سے سیاہ پوشاک جھٹکنے لگی۔
روشنی نمودار ہونے میں گرچہ تھوڑا وقت اور باقی تھا لیکن کنکریٹ اور لوہے کی چمنیوں پر بنے ہوئے گھونسلوں میں بے چینی پھیلنے لگی۔ گذشتہ اڑان کی تھکن ابھی ان کے پروں میں باقی تھی۔ وہ لمبی نیند لینا چاہتے تھے لیکن بھوک سے بلکتے بچوں نے اپنے ماں باپ کے پر وں کو نوچنا شروع کر دیا۔ وقت سے ذرا پہلے آنکھ کھل جانے کے باعث، ایک بار پھر پرندوں کا خواب ادھورا رہ گیا۔ دھواں اگلتی چمنیاں بہت تیزی کے ساتھ درختوں کو جنگل سے بے دخل کررہی تھیں اور آسودگی کے متلاشی پرندے اس کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور تھے۔ تنگدستی نے ان کے پروں کی لمبائی کو دگنا کر دیا تھا، لیکن تب بھی وہ خط غربت سے اونچی اڑان نہ بھر سکے۔ سفید پروں پر دھوئیں کی کالک نے جا بجا آڑھی ترچھی لکیریں پھیر کر انہیں چتکبرا بنا دیا تھا، وہ اپنی شناخت کھو رہے۔۔۔مزید پڑھیں









