چتکبرے!

رات کے چاک پر انگڑائی لیتی ملگجی صبح، اپنے بدن سے سیاہ پوشاک جھٹکنے لگی۔

روشنی نمودار ہونے میں گرچہ تھوڑا وقت اور باقی تھا لیکن کنکریٹ اور لوہے کی چمنیوں پر بنے ہوئے گھونسلوں میں بے چینی پھیلنے لگی۔ گذشتہ اڑان کی تھکن ابھی ان کے پروں میں باقی تھی۔ وہ لمبی نیند لینا چاہتے تھے لیکن بھوک سے بلکتے بچوں نے اپنے ماں باپ کے پر وں کو نوچنا شروع کر دیا۔ وقت سے ذرا پہلے آنکھ کھل جانے کے باعث، ایک بار پھر پرندوں کا خواب ادھورا رہ گیا۔ دھواں اگلتی چمنیاں بہت تیزی کے ساتھ درختوں کو جنگل سے بے دخل کررہی تھیں اور آسودگی کے متلاشی پرندے اس کی بھاری قیمت ادا کرنے پر مجبور تھے۔ تنگدستی نے ان کے پروں کی لمبائی کو دگنا کر دیا تھا، لیکن تب بھی وہ خط غربت سے اونچی اڑان نہ بھر سکے۔ سفید پروں پر دھوئیں کی کالک نے جا بجا آڑھی ترچھی لکیریں پھیر کر انہیں چتکبرا بنا دیا تھا، وہ اپنی شناخت کھو رہے۔۔۔مزید پڑھیں

مچھیرا

میں جب ماں کے پیٹ میں تھا، پانی میں تھا۔

میرا بچپن اپنے باپ کیساتھ پانی پر گذرا۔

اور آج، میں اپنی آسودگی بھی پانی ہی میں تلاش کر رہا ہوں۔۔۔۔

میں اپنا بچپن ماں کی ہڈیوں سے کشید کرتا رہا، یہاں تک کہ اس کے جسم میں موجود ساری ہڈیاں بھربھری ہو گئیں اور پھر ایک دن ایسا بھی آیا کہ جب میری ماں کے پاس مجھے دینے کے لیے پیار کے سوا کچھ بھی نہ بچا۔ جب میری ہڈیوں نے چلنا سیکھا تو میں نے اپنے باپ کی انگلی تھام لی اور اس وقت تک تھامے رکھی کہ جب تک وہ میری بند مٹھی میں غائب نہ ہو گئی۔۔۔مزید پڑھیں

نوحہ گر

ایک بوسیدہ مکان میں ہم چار ’’جاندار‘‘ اکھٹے رہا کرتے تھے۔ ابا، اماں، میں اور ایک سفید بکری۔

میں چارپائی سے بندھاہر روز۔۔۔

بکری کو ممیاتے، ماں کو بڑبڑاتے اور ابا کے ماتھے پر موجود لکیروں کو سکڑتے پھیلتے دیکھا کرتا۔

میری ماں زیرلب کیا بڑبڑایا کرتی تھی۔۔۔؟ کبھی سن نہ پایا

بکری درد بھری آواز میں چلا چلا کر کیا بتانا چاہتی تھی۔۔۔؟ اس پر کبھی دھیان ہی نہیں دیا

ابا، ہونٹوں سے بیڑی دبائے کن سوچوں میں گم رہتا اور اس کے ماتھے کی تہہ دار لکیریں کیوں سکڑا، پھیلا کرتی تھیں ۔۔۔؟ میں یہ سمجھنے ۔۔۔مزید پڑھیں

ٹوبہ ٹیک سنگھ

اس افسانہ میں نقل مکانی کے کرب کو موضوع بنایا گیا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جہاں ہر چیز کا تبادلہ ہو رہا تھا وہیں قیدیوں اور پاگلوں کو بھی منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ فضل دین پاگل کو صرف اس بات سے سروکار ہے کہ اسے اس کی جگہ ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ سے جدا نہ کیا جائے۔ وہ جگہ خواہ ہندوستان میں ہو یا پاکستان میں۔ جب اسے جبراً وہاں سے نکالنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ایک ایسی جگہ جم کر کھڑا ہو جاتا ہے جو نہ ہندوستان کا حصہ ہے اور نہ پاکستان کا اور اسی جگہ پر ایک فلک شگاف چیخ کے ساتھ اوندھے منھ گر کر مر جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

بہو بیٹیاں

یہ میری سب سے بڑی بھابی ہیں۔ میرے سب سے بڑے بھائی کی سب سے بڑی بیوی۔ اس سے میرا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ میرے بھائی کی خدا نہ کرے بہت سی بیویاں ہیں۔ ویسے اگر آپ اس طرح سے ابھر کر سوال کریں تو میرے بھائی کی کوئی بیوی نہیں، وہ اب تک کنوارا ہے۔ اس کی روح کنواری ہے۔

ویسے دنیا کی نظروں میں وہ بڑی بھابی کا خدائے مجازی ہے اور پون درجن بچوں کا باپ ہے۔ اس کی شادی ہوئی، دولھا بنا، گھوڑے پر چڑھا، دلھن کو گھر لا کر پلنگ پر بٹھایا پھر پاس ہی خود بھی بیٹھ گیا۔ اور جب سے برابر بیٹھ رہا ہے۔ لیکن تصوف کی باتیں سمجھنے والوں ہی کو معلوم ہے کہ وہ کنوارا ہے اورسدا کنوارا رہے گا۔۔۔مزید پڑھیں

جنازے

میرا سر گھوم رہا تھا۔۔۔ جی چاہتا تھا کہ کاش ہٹلر آ جائے اور اپنے آتشیں لوگوں سے اس نامراد زمین کا کلیجہ پھاڑدے۔ جس میں ناپاک انسان کی ہستی بھسم ہوجائے، ساری دنیا جیسے مجھے ہی چھیڑنے پر تل گئی ہے، میں جو پودا لگادوں مجال ہے کہ اسے مرغیوں کے بےدرد پنجے کریدنے سے چھوڑدیں۔ میں جو پھول چنوں بھلا کیوں نہ وہ مری سہیلیوں کو بھائے۔ اور وہ کیوں نہ اسے اپنے جوڑے کی زینت بنالیں۔

غرض میرے ہر قول و فعل سے دنیا کو بیر ہوگیا ہے اور میری دنیا بھی کتنی ہے۔ یہی چند بھولے بھٹکے لوگ۔ دوچار سیکنڈ ہینڈ عاشق مزاج اور کچھ پھوڑ۔ لڑاکا اور فیشن پر مرنے والی سہیلیاں۔۔۔ یہ بھی کوئی دنیا ہے؟ بالکل تھکی ہوئی دنیا۔ میرے۔۔۔مزید پڑھیں

آخری آدمی

یہ جاتک کتھا اور تاریخی واقعات پر مبنی افسانہ ہے۔ سمندر کے کنارے ایک بستی ہے، اس بستی کے لوگ مچھلی کا شکار کر اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ انھیں ایک خاص دن کو مچھلی پکڑنے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن لوگ بات کو ان سنا کر مچھلی پکڑتے ہیں اور وہ بندر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ بس ایک شخص بچتا ہے جو بندر نہ بننے کے لیے ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔’’

الیاسف اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔۔۔مزید پڑھیں

امرتسر آزادی کے بعد

پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان آزاد ہوا۔ پاکستان آزاد ہوا۔ پندرہ اگست 1947ء کو ہندوستان بھرمیں جشن آزادی منایا جا رہا تھا اور کراچی میں آزاد پاکستان کے فرحت ناک نعرے بلند ہو رہے تھے۔ پندرہ اگست 1947ء کو لاہور جل رہا تھا اور امرت سر میں ہندو مسلم ،سکھ عوام فرقہ وارانہ فساد کی ہولناک لپیٹ میں آ چکے تھے ۔کیونکہ کسی نے پنجاب کے عوام سے نہیں پوچھا تھا کہ تم الگ رہنا چاہتے ہو یا مل جل کے، جیسا تم صدیوں سے رہتے چلے آئے ہو۔۔۔مزید پڑھیں

امرتسر آزادی سے پہلے

جلیان والا باغ میں ہزاروں کا مجمع تھا۔ اس مجمع میں ہندو تھے، سکھ بھی تھے اور مسلمان بھی۔ ہندو مسلمانوں سے اور مسلمان سکھوں سے الگ صاف پہچانے جاتے تھے۔ صورتیں الگ تھیں، مزاج الگ تھے، تہذیبیں الگ تھیں، مذہب الگ تھے لیکن آج یہ سب لوگ جلیان والا باغ میں ایک ہی دل لے کے آئے تھے۔ اس دل میں ایک ہی جذبہ تھا اور اس جذبے کی تیز اور تند آنچ نے مختلف تمدن اور سماج ایک کر دئیے تھے۔

دلوں میں انقلاب کی ایک ایسی پیہم رو تھی کہ جس نے آس پاس کے ماحول کو بھی پر فسا دبنا دیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس شہر کے بازاروں کا ہر پتھر اور اس کے مکانوں کی لہر ایک اینٹ اس خاموش جذبے کی گونج سے آشنا ہے اور اس لرزتی ہوئی دھڑکن سے نغمہ ریز ہے۔ جو ہر لمحے کے ساتھ گویا کہتی جاتی ہو۔ آزادی، آزادی۔۔۔مزید پڑھیں

پورے چاند کی رات

اپریل کا مہینہ تھا۔ بادام کی ڈالیاں پھولوں سے لد گئی تھیں اور ہوا میں برفیلی خنکی کے باوجود بہار کی لطافت آ گئی تھی۔ بلند و بالا تنگوں کے نیچے مخملیں دوب پر کہیں کہیں برف کے ٹکڑے سپید پھولوں کی طرح کھلے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اگلے ماہ تک یہ سپید پھول اسی دوب میں جذب ہو جائیں گے اور دوب کا رنگ گہرا سبز ہو جائے گا اور بادام کی شاخوں پر ہرے ہرے بادام پکھراج کے نگینوں کی طرح جھلملائیں گے اور نیلگوں پہاڑوں کے چہروں سے کہرا دور ہوتا جائے گا اور اس جھیل کے پل کے پار پگڈنڈی کی خاک ملائم بھیڑوں کی جانی پہچانی با آ آ سے جھنجھنا اٹھے گی۔ اور پھر ان بلند و بالا تنگوں کے نیچے چرواہے بھیڑوں کے جسموں سے سردیوں کی پلی ہوئی موٹی موٹی گف اون گرمیوں میں کترتے جائیں گے اور گیت گاتے جائیں گے۔۔۔مزید پڑھیں