وہ خط جو پوسٹ نہ کیے گئے

یہ افسانہ دس مختصر خطوط کا مجموعہ ہے جو الگ الگ افراد کو طنزیہ اور نیم مزاحیہ پیرائے میں لکھے گئے ہیں۔ کاتب جو ایک عورت ہے اپنے مکتوب الیہ کی روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی خامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔حوا کی ایک بیٹی کے چند خطوط جو اس نے فرصت کے وقت محلے کے چند لوگوں کو لکھے۔ مگر ان وجوہ کی بنا پر پوسٹ نہ کیے گئے جو ان خطوط میں نمایاں نظر آتی ہیں۔ (نام اور مقام فرضی ہیں) پہلا خط۔۔۔ مسز کرپلانی کے نام خاتونِ مکرم، آداب عرض! معاف فرمائیے گا۔ میں یہ سطور بغیر تعارف کے لکھ رہی ہوں۔ مگر مجھے چند ضروری باتیں۔۔۔مزید پڑھیں

وہ لڑکی

کہانی ایک ایسے شخص کی ہے جس نے فسادات کے دوران چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا۔ ایک دن وہ گھر میں تنہا تھا تو اس نے باہر درخت کے نیچے ایک لڑکی کو بیٹھے دیکھا۔ اشاروں سے اسے بلانے میں ناکام رہنے کے بعد وہ اس کے پاس گیا اور زبردستی اسے اپنے گھر لے آیا۔ جلدی ہی اس نے اسے قابو میں کر لیا اور چومنے لگا۔ بستر پر جانے سے پہلے لڑکی نے اس سے پستول دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو اس نے اپنی پستول لاکر اسے دے دی۔ لڑکی نے پستول ہاتھ میں لیتے ہی چلا دی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ جب اس نے پوچھا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو لڑکی نے بتایا کہ اس نے جن چار مسلمانوں کا قتل کیا تھا ان میں ایک اس لڑکی کا باپ بھی تھا۔۔۔مزید پڑھیں

والد صاحب

کہانی کی کہانی:’’یہ ایک نیم مزاحیہ رومانی کہانی ہے۔ توفیق کے والد صاحب ڈی ایس پی تھے جو ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔ وہاں توفیق کی نظر ایک نرس سے لڑ گئی اور جس شام کو توفیق نرس کے ساتھ لانگ ڈرائیو پر جانے والا تھا اسی شام اس نے والد کو نرس کا بوسہ لیتے ہوئے دیکھا۔ جس وقت توفیق وارڈ میں داخل ہوا اس کے ساتھ اس کی والدہ بھی تھیں۔‘‘

توفیق جب شام کو کلب میں آیا تو پریشان سا تھا۔

دوبار ہارنے کے بعد اس نے جمیل سے کہا، ’’لو بھئی میں چلا۔۔۔مزید پڑھیں

اس کا پتی

یہ افسانہ استحصال، انسانی اقدار اور اخلاقیات کے زوال کی کہانی ہے۔ بھٹے کے مالک کا عیاش بیٹا ستیش گاؤں کی غریب لڑکی روپا کو اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر چھوڑ دیتا ہے۔ جب گاؤں والوں کو اس کے حاملہ ہونے کی بھنک لگتی ہے تو روپا کا ہونے والا سسر اس کی ماں کو لعن طعن کرتا ہے اور رشتہ ختم کر دیتا ہے۔ معاملے کو سلجھانے کے لیے نتھو کو بلایا جاتا ہے، جو سمجھدار اور معاملہ فہم سمجھا جاتا تھا۔ ساری باتیں سننے کے بعد وہ روپا کو ستیش کے پاس لے جاتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ روپا اور اپنے بچے کو سنبھال لے۔ لیکن ستیش سودا کرنے کی کوشش کرتا ہے جس پر روپا بھاگ جاتی ہے اور پاگل ہو جاتی۔۔۔مزید پڑھیں

روشنی

آئی.سی.ایس پاس کر کے ہندوستان آیا تو مجھے ممالک متحدہ کے ایک کو ہستانی علاقے میں ایک سب ڈویژن کا چارج ملا۔ مجھے شکار کا بہت شوق تھا اور کوہستانی علاقے میں شکار کی کیا کمی۔ میری دلی مراد بر آئی۔ ایک پہاڑ کے دامن میں میرا بنگلہ تھا۔ بنگلے ہی پر کچہری کر لیا کرتا تھا۔ اگر کوئی شکایت تھی تو یہ کہ سو سائٹی نہ تھی ۔اسلیے سیر و شکار اور اخبارات و رسائل سے کمی کو پورا کیا کرتا تھا۔ امریکہ اور یوروپ کے کئی اخبار اور رسالے آتے تھے۔ ان کے مضامین کی شگفتگی اور جدت اور خیال آرائی کے مقابلے میں ہندوستانی اخبار اور رسالے بھلا کیا جچتے! سوچتا تھا وہ دن کب آئے گا کہ ہمارے یہاں بھی ایسے ہی شان دار رسالے۔۔۔مزید پڑھیں

عیدگاہ

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم، درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے۔۔۔مزید پڑھیں

حج اکبر

منشی صابر حسین کی آمدنی کم تھی اور خرچ زیادہ۔ اپنے بچہ کےلیے دایہ رکھنا گوارا نہیں کر سکتے تھے۔ لیکن ایک تو بچہ کی صحت کی فکر اور دوسرے اپنے برابر والوں سے ہیٹے بن کر رہنے کی ذلت اس خرچ کو برداشت کرنے پر مجبور کرتی تھی۔ بچہ دایہ کو بہت چاہتا تھا۔ ہر دم اس کے گلے کا بار بنا رہتا۔ اس وجہ سے دایہ اور بھی ضروری معلوم ہوتی تھی۔ مگر شاید سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ وہ مروت کے باعث دایہ کو جواب دینے کی جرات نہ کرسکتے۔۔۔مزید پڑھٰیں

ٹوٹی ہوئی سڑک


وہ ایک چھوٹے سے گاؤں کی ایک چھوٹی سی سڑک تھی، جس کے ارد گرد درخت ہی درخت تھے درختو ں کے پیچھے سکول کی عمارت تھی، اس سڑک پر آپ اگر چلتے جائیں تو آگے ہسپتال آ جائےگا جہاں ایک ڈاکٹر صاحب بیٹھتے تھے، جو سب کو ایک ہی طرح کی کڑوی ادویات دیتے تھے ان کے پاس کوئی دوا میٹھی نہیں تھی دوا کے فوراً بعد آپ کو چینی بھی کھانا پڑتی تھی، لیکن اب وہ ڈاکٹر صاحب معلوم نہیں کہاں ہونگے کہ یہ بہت پرانی بات ہے۔۔۔مزید پڑھیں

سویٹ ہارٹ

اچھا سویٹ ہارٹ اب میں اسٹڈی کرنے جا رہا ہوں۔یہ کہتے ہوئے اس نے ہونٹ چومے اور اس کے روم میں اپنا وجود چھوڑ کر شب خوابی کا لباس پہنتے ہی کمرے سے باہر چلا گیا اور کمرے کا دروازہ بند کر دیا۔اسٹڈی روم تنہا بیڈروز کی طرح اس کا منتظر تھا۔ اس نے لیمپ لائٹ آن کی، کمرے کا دروازہ بند کیا اور آرام سے ٹیک لگاکر بیڈ پر بیٹھ گیا۔ پھر بیٹھے بیٹھے خود ہی مسکرانے لگا۔۔۔’’یہ عورتیں بھی کتنی بے وقوف ہوتی ہیں، ان کے جذبوں پر نہ تعلیم کا اثر ہوتا ہے، نہ حالات کا۔ اگر ہوتا ہے تو زبان کا۔۔۔ چاہے مرد کی زبان کتنا ہی جھوٹ بولتی ہو۔۔۔‘‘مزید پڑھیں

دستخط

وہ نشے میں د ھت مسلسل رم پیے جا رہا تھا۔ پا ر ٹی ختم ہو چکی تھی۔ سب رقص و سرور سے مدہوش جا چکے تھے۔ایک وہ اور ایک لڑکا جو اس کا سا تھ دے رہا تھا۔۔۔ وہ خود تو ریڈ بئیر تک محدود تھا اور بہت کم لے رہا تھا مگر اپنے باس کا ساتھ زر خرید غلام کی طرح سے دے رہا تھا۔بس ایک بار۔۔۔ایک بار۔۔۔وہ مجھے مل جائے تو۔۔۔کسی بھی قیمت پر۔۔۔ایک بار۔۔۔، بس ایک بار۔۔۔ کسی بھی قیمت پر۔۔۔تو زند گی میں لو ٹ۔۔۔مزید پڑھیں