بہار کی قاتلانہ ہوا یوں محو رقص تھی کہ باغ کے تمام درخت، پودے، پتے، شاخیں بھی ان کے ہمراہ ناچ رہے تھے۔ پھولوں پہ دیوانگی کا عاشقانہ عالم طاری تھا، جو چھپائے نہیں چھپتا۔۔۔ اک اک پھول کی خوشبو اپنا حسن بکھرا چکی تھی اور اب یہ چھوٹے چھوٹے عشق مل کر اک بڑے عشق کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک برے بدنام و بےلگام و بےباک تعلق کی طرف کا سفر۔۔۔ مگر اس سفر کے مسافر کو ابھی تک یہی معلوم نہیں ہو پا رہا تھا کہ یہ کس اور کا سفر ہے۔۔۔ دیوانگی کا نشہ حواس پر غالب تھا۔ بہار کی طاقت آمرانہ ستم کر رہی۔۔۔!مزید پڑھیں
روح کا سفر
آسمانی پردوں پر، رائل بلیو لہروں میں، سفید پتوں کی باتیں، جب نیلے بیڈ پہ بچھے ریشمی رائل بلیوبستر کے موتیا پھولوں سے ہوتیں تو وہ الماری کے قریب بچھی آسمانی رگ پہ بیٹھتی اور بلیو کشن سے ٹیک لگا کر ان کی چھیر چھاڑ سنتی اور دیکھتی رہتی۔ یہ سب باظاہر بےجان ہیں، مگر زندہ بھی ہیں۔وہ حیرت سے سوچتی۔سنسناتی سردیاں اپنے عروج پر تھیں۔ نیلے کمرے کی ہلکی نیلی روشنی میں اپنی الما ری کے قریب رکھی اکلوتی کرسی پر بیٹھے اس نے شال کو اپنے گرد لپیٹا، جس کا پلو کرسی کے بازو سے نیچے لٹک رہا تھا اور ٹانگیں بیڈ کی طرف پھیلا کر کرسی سے ٹیک لگائے سامنے دیوار پر لگے فریم اور شیشیوں کو نم نم آنکھو ں سے اس مدھم سی روشنی میں۔۔۔۔مزید پڑھیں
سانجھ
لالہ جی کو یہ بات کھل گئی کہ بڑھیا (لالائن) نے بال کٹوا دئیے اور ان سے پوچھا بھی نہیں۔پچھلے مہینے ان کی بہو مائیکے گئی تھی تو اپنی ساس کو ساتھ لے گئی تھی، دلی۔ کہ ٹرین میں گود کے بچے کو سنبھالنے میں آسانی رہےگی۔ لالہ جی سے خود مایا دیوی نے پوچھا تھا ’’بہو کہہ رہی ہے دلی چلنے کے لیے، جاؤں؟’’ہاں ہاں ضرور جاؤ۔ ٹرین کے دھکم دھکے میں بیچاری بہو کیسے سنبھالےگی بچے کو؟‘‘ان کی بہو ’’منی‘‘ کے پتا ریٹائرڈ کرنل ہیں۔ منی کے دو بھائی بھی ملٹری میں بڑے عہدوں پر ہیں۔ کرنل صاحب کا پارٹیوں میں آنا جانا آج بھی۔۔۔۔۔مزید پڑھیں
ادھا
سب اسے ’’ادھا‘‘ کہہ کے بلاتے تھے۔ پورا کیا، پونا کیا، بس ادھا۔ قد کا بونا جو تھا۔ پتا نہیں کس نے نام رکھا تھا۔ ماں باپ ہوتے تو ان سے پوچھتا۔ جب سے ہوش سنبھالا تھا، یہی نام سنا تھا اور یہ بھی نہیں کہ کبھی کوئی تکلیف ہوئی ہو۔ دل دُ کھا ہو۔ کچھ نہیں۔ ہر وقت اپنی مستی میں رہتا تھا۔ خربوزے والے نے کہا ادھے ذرا دکان دیکھیو، میں کھانا کھا کے آیا۔‘‘ اور ادھا بڑے مزے سے ڈنڈی ہاتھ میں لے کر بیٹھ جاتا اور ہانک لگاتے۔‘‘ آجا مصری کے ڈلے ہیں۔وہ کبھی خربوزے بیچتا، کبھی کھجوریں، نانی کو وید جی سے ہاضمے کی دوا لا کر دیتا۔ تیسری منزل والے کیشوانی کی بچی کو سکول چھوڑ کے آتا اور مادھو مستری کو کبھی مزدور نہ ملتا تو وہ اینٹیں دھونے کا کام بھی کر لیتا۔۔۔مزید پڑھیں
اُلو کا پٹھا
قاسم ایک دن صبح سو کر اٹھتا ہے تو اس کے اندر یہ شدید خواہش جاگتی ہے کہ وہ کسی کو الو کا پٹھا کہے۔ بہت سے طریقے اور مواقع سوچنے کے بعد بھی وہ کسی کو الو کا پٹھا نہیں کہہ پاتا اور پھر دفتر کے لئے نکل کھڑا ہوتا ہے۔ راستے میں ایک لڑکی کی ساڑی سائکل کے پہیے میں پھنس جاتی ہے، جسے وہ نکالنے کی کوشش کرتا ہے لیکن لڑکی کو ناگوار گزرتا ہے اور وہ اسے ’’الو کا پٹھا‘‘ کہہ کر چلی چاتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
ٹھنڈا گوشت
بے حس ہو چکے معاشرے میں بھی انسانیت کی رمق باقی رہتی ہے۔ ٹھنڈا گوشت ایک مرد کے جنسی جذبات سرد ہو جانے یا نفسیاتی طور پر نامرد ہو جانے کی کہانی ہے۔ فسادات میں لوٹ مار، عصمت دری، قتل و غارت گری میں پیش پیش رہنے والا ایشر سنگھ جب ایک لڑکی پر ہاتھ صاف کرنے کے ارادے سے اسے اٹھا کر لاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ مر چکی ہے۔ اس شدید صدمے سے وہ اپنی مردانگی کھو بیٹھتا ہے۔ لڑکی کو وہیں چھوڑ کر وہ ہوٹل میں اپنی داشتہ کلونت کے پاس جاتا ہے۔ کلونت کے لاکھ کوشش کے باوجود وہ خود کو جنسی طور پر تیار نہیں کر پاتا۔ جب وہ کلونت کو اپنے جنسی جذبات سرد ہوجانے کی کہانی سناتا ہے تو کلونت آگ بگولہ ہوجاتی ہے اور اسے خنجر گھونپ دیتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
گزرے دنوں کی یاد
ہماری زندگی میں کبھی کبھی کوئی لمحہ ایسا آتا ہے جو بیتے دنوں کی ایک ایسی کھڑکی کھول دیتا ہے جس سے یادوں کی پوری بارات چلی آتی ہے۔ اس کہانی کا ہیرو بھی کسی ایسی ہی کشمکش کا شکار ہے۔ ایک دن اچانک اس کے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ بتائے کہ یہ آواز کس کی ہے۔ ہیرو اپنی یادداشت کے مطابق کئی لڑکیوں کے نام بتاتا ہے اور فون کرنے والی لڑکی سے مسلسل باتیں کیے جا رہا ہے۔ ذہن پر بہت زور دینے کے باوجود بھی یاد نہیں کر پاتا کہ آخر اس سے بات کرنے والی لڑکی کون ہے۔۔۔مزید پڑھیں
غلامی
سرمایہ داری نے ہر غریب انسان کو غلام بنا دیا ہے۔ ایک خوشگوار شام کو دو دوست ندی کنارے بیٹھ کر اپنی غربت کے بارے میں باتیں کر رہے ہیں۔ وہ اس بات سے افسردہ ہیں کہ غریب کتنی مصیبتوں کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ دونوں دوست اب یہاں سے چلنے کی تیاری کرتے ہیں، جبھی ایک غریب عورت ان کے پاس سے گزرتی ہے۔ ان میں سے ایک اس عورت سے فصل کے بارے میں دریافت کرتا ہے کہ وہ عورت رونے لگتی ہے۔ دوسرا دوست اس کی مدد کرنا چاہتا ہے کہ پہلا دوست یہ کہہ کر اسے مدد کرنے سے روک دیتا ہے کہ غلامی تو ان کے اندر بسی ہوئی۔۔۔مزید پڑھیں
غریبوں کا بھگوان
کہانی کی کہانی:’’کہانی ایک ایسی بیوہ کی ہے، جو اپنے بڑے بیٹے کی موت پر پاگل ہو جاتی ہے۔ اس کی بیماری میں وہ ہر کسی سے مدد مانگتی ہے مگر کوئی بھی اس کی مدد نہیں کرتا۔ وہ مندر جاتی ہے تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ امیروں کا مندر ہوتا ہے۔ وہاں سے نکل کر وہ غریبوں کے بھگوان کی تلاش میں بھٹکنے لگتی ہے۔ مگر کوئی بھی اسے غریبوں کے بھگوان کا پتہ نہیں دیتا۔ آخر میں ایک ڈاکٹر اسے بتاتا ہے اس دنیا میں کون غریبوں کا بھگوان ہے۔۔۔مزید پڑھیں
دلی کی سیر
کہانی کی کہانی:’’یہ فریدآباد سے دہلی کی سیر کو آئی ایک عورت کے ساتھ ہوے واقعات کا قصہ ہے۔ ایک عورت اپنے شوہر کے ساتھ دہلی کی سیر کے لیے آتی ہے۔ دہلی میں اس کے ساتھ جوکچھ واقع ہوتا ہے واپس جاکر انہیں وہ اپنی سہیلیوں کو سناتی ہے۔ اس کے ساتھ ہوئے سبھی واقعات اتنے دلچسپ ہوتے ہیں کہ اس کی سہیلیاں جب بھی اس کے گھر جمع ہوتی ہیں، ہر بار اس سے دہلی کی سیر کا قصہ سنانے کے لیے کہتی ہیں۔۔۔مزید پڑھیں









