یہ ایک ایسے نوجوان کی کہانی ہے، جو کشمیر گھومنے گیا ہے۔ صبح کی سیر کے وقت وہ وہاں کے دلکش مناظر کو دیکھتا ہے اور اس میں کھویا ہوا چلتا چلا جاتا ہے۔ تبھی اسے کچھ بھینسوں، گایوں اور بکریوں کو لیے آتی ایک چرواہے کی لڑکی دکھائی دیتی ہے۔ وہ اسے اتنی خوبصورت نظر آتی ہے کہ اسے اس سے محبت ہو جاتی ہے۔ لڑکی بھی گھر جاتے ہوئے تین بار اسے مڑ کر دیکھتی ہے۔ کچھ دیر اس کے گھر کے پاس کھڑے رہنے کے دوران بارش ہونے لگتی ہے، اور جب تک وہ ڈاک بنگلے پر پہنچتا ہے تب تک وہ پوری طرح بھیگ جاتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
دو مونہی
کہانی دوہرے کردار سے جوجھتی ایک ایسی عورت کے گرد گھومتی ہے، جو ظاہری طور پر تو کچھ اور دکھائی دیتی ہے مگر اس کے اندر کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے۔ اپنی اس شخصیت سے پریشان وہ بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کراتی ہے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ پھر اس کی ایک سہیلی اسے تیاگ کلینک کے بارے میں بتاتی ہے اور وہ اپنے شوہر سے ہل اسٹیشن پر گھومنے کا کہہ کر اکیلے ہی تیاگ کلینک میں علاج کرانے کے لیے نکل پڑتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں
میں نے کب برق تپاں موج بلا مانگی تھی
گنگناتی ہوئی ساون کی گھٹا مانگی تھی
دشت و صحرا سے گزرتی ہوئی تنہائی نے
راستے بھر کے لئے اس کی صدا مانگی تھی۔۔۔مزید پڑھیں
پرایا گھر
مادی دنیا میں خونی رشتوں کا معیار بھی دولت ہے۔ ایکسیڈنٹ میں زخمی ایک شخص کے ذہن پر چوٹ کا ایسا اثر ہوتا ہے کہ اسے سب کچھ پرایا لگنے لگتا ہے یہاں تک کہ اپنا گھر اور گھر والے بھی۔ اسے خاص نگہداشت کی ضرورت ہے لیکن گھر کا کوئی فرد اس کے پاس نہیں ہوتا، وہ صرف پنشن کے فارم پر دستخط کرانے اس کے پاس آتے ہیں۔۔۔مزید پڑھیں
زہرہ کا ایک پجاری
یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے، جو یونان میں عشق کی دیوی زہرہ کے مندر کا پجاری ہے۔ اپنی موسیقی اور درد بھرے اشعار سے وہ پورے دیش میں مشہور ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بادشاہ کی بیٹی بھی اس کی دیوانی ہوکر اس سے ملنے آتی ہے۔ مگر وہ اس کی تجویز کو ٹھکرا دیتا ہے اور زیادہ زور دینے پر خودکشی کر لیتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں
ملاوٹ
یہ ایک ایسے ایماندار اور خوش اخلاق شخص کی کہانی ہے جس نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کو دھوکا نہیں دیا۔ وہ اپنی زندگی سے خوش تھا۔ اس نے اپنی شادی کرنے کا فیصلہ کیا لیکن شادی میں اس کے ساتھ فریب کیا گیا۔ وہ جہاں بھی گیا اس کے ساتھ دھوکا اور فریب ہوتا رہا۔ پھر اس نے بھی لوگوں کو دھوکا دینے کا ارادہ کر لیا۔ آخر میں زندگی سے تنگ آکر اس نے موت کو گلے لگانے کا فیصلہ کیا۔ خودکشی کے لیے اس نے جو زہر خریدا تھا اس میں بھی ملاوٹ تھی، جس کی وجہ سے اس کی وہ حسرت پوری نہ ہو سکی۔۔۔مزید پڑھیں
طبع روشن کو مری کچھ اس طرح بھائی غزل
جب بھی میں تنہا ہوا ہوں مجھ کو یاد آئی غزل
جب بھی دن ڈوبا ہوئی فکر سخن لاحق مجھے
شام ہوتے ہی مرے ساغر میں در آئی غزل۔۔۔مزید پڑھیں
طمحبت کی دیوی
یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے، جو اپنے حسن اور پاک دامنی کے لیے پورے علاقے میں مشہور ہے۔ وہ جب مندر میں پوجا کرنے آتی ہے، اس کی ایک جھلک پانے کے لیے وہاں سینکڑوں لڑکوں کی قطار لگی رہتی ہے۔ مگر نہ چاہتے ہوئے بھی جس کی محبت میں تڑپتے ہوئے وہ اپنی جان دے دیتی ہے، وہ کوئی اور نہیں، محمد قاسم ہوتا ہے۔۔۔مزید پڑٰٰٰٰھیں
آدھا پھول، آدھا شَو
(شَو: لاش، میت یا جنازہ)
حافظ جی کھانا کھانے بیٹھے تو گوشت میں انہیں نمک کچھ زیادہ ہی تیز لگا اور انہوں نے کھانا چھوڑ دیا۔
گھر والوں کو حیرت ہوئی۔ نمک چاہے تیز ہو یا کم، حافظ جی کھانا تو کبھی نہیں چھوڑتے تھے۔۔۔مزید پڑھیں
وہی مرے خس و خاشاک سے نکلتا ہے
جو رنگ سا تری پوشاک سے نکلتا ہے
کرے گا کیوں نہ مرے بعد حسرتوں کا شمار
ترا بھی حصہ ان املاک سے نکلتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں






